ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور رن وے پر چیتوں کی چہل پہل کو لےکر افسران پریشان

منگلورو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور رن وے پر چیتوں کی چہل پہل کو لےکر افسران پریشان

Sun, 14 Nov 2021 19:00:11    S.O. News Service

منگلورو:14؍نومبر (ایس اؤ نیوز) ہاتھی، چیتا، سور، ہرن ، بھینسہ جیسے جنگلی جانور کبھی کبھار آبادی میں گھس آنے کے واقعات سنتے رہتےہیں۔ لیکن اس وقت منگلورو کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر چیتے کی چہل پہل سے ہوائی اڈے کا عملہ کافی پریشان ہے۔ رات کے اوقات میں ہوائی اڈے کے رن وے پر تین چار چیتے نظر آنے سے افسران متفکر ہیں کہ کہیں یہ کسی حادثے کا سبب بن نہ جائیں۔

 محکمہ فوریسٹ کی طرف سےکئے گئے جانور سروے کے مطابق پانچ برس پہلے منگلورو رینج حدود میں دو تین چیتے تھے جو اب بڑھ کر 9ہوگئےہیں۔  عوام کاکہنا ہے کہ  کٹیلو، بجپے ، منگلورو فاریسٹ علاقوں میں 15سے زائد چیتےہیں۔ ایک مہینہ پہلے منگلورو مہا نگر پالیکا حدود کے مرولی میں بھی چیتے کی بھاگ دوڑ دیکھی گئی ہے ، اس کے بعد کنکناڑی بلال پہاڑ پر چیتے کے قدم کے نشان دیکھے گئے ۔ بجپپے کے شہری علاقوں میں چیتے دیکھے جانے کی خود فوریسٹ افسران جانکاری دے رہے ہیں۔

افسران چوکس :بجپے کےکینجارو پہاڑ پر واقع ہوائی اڈے کے اطراف والےجنگل میں چیتے کی بھاگ دوڑ عام بات ہے، مگر دیکھا جارہاہےکہ پچھلے 6-7مہینوں سے چیتے رات کے اوقات میں ہوائی اڈے میں گھس آر ہےہیں، بالکل ابتداء میں صرف ایک چیتے کو رن وے پر یا رن وے کے بازو میں دیکھا جارہاتھا۔ غالباً غذا کی تلاش میں نکل آیا ہوگا سمجھ کر اس طرف کوئی زیادہ سنجیدگی سے توجہ نہیں کیا۔ لیکن ادھر دو تین مہینوں سے دیکھا جارہاہے کہ دو تین چیتے رن وے پر بیٹھے  دیکھے گئے۔ ہوائی جہاز کے لینڈنگ یا ٹیک آف کے دوران میں رن وے کے قریب جانوروں کی بھاگ دوڑ کافی خطرناک ہونے کی وجہ سےمعاملے کو سنجیدگی سےلے کر افسران چوکس ہیں۔

چیتوں کی تعداد میں اضافہ :شراڑی، چارمڑی سے زیادہ  منگلورو فوریسٹ علاقےمیں چیتوں کی شرح زیادہ ہے۔ چیتوں کی عام غذا بندر ہوتےہیں، منگلورو فوریسٹ علاقےمیں بندروں کی تعداد کافی کم ہونے سے چیتے متبادل غذا کے طورپر آوارہ کتوں پر جھپٹا مارتے ہیں، اسی طرح بیل، بچھڑے ، گائے وغیرہ کا بھی شکار کرتے ہیں۔ عام طورپر چیتے گھنے جنگلات کے اندر دن گزارتے ہیں تو رات میں غذا کی تلاش میں نکل جاتےہیں۔ بجپے ، کٹیلو  علاقوں میں پرائیویٹ فوریسٹ زیادہ ہونے سے چیتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونےکی جانکاری فوریسٹ افسران دے رہےہیں۔

چیتوں کو پکڑ کر کہاں چھوڑا جاتاہے؟:اب سوال پیدا ہورہاہے کہ ہوائی اڈے کے اطراف اور رن وے پر دیکھے گئے چیتوں کو کہاں  منتقل کیاجارہاہے۔ چارمڑی گھاٹ یا پتور کے دیہی علاقوں کے جنگل میں چھوڑے جانےکا محکمہ کا ارادہ ہے۔ دکشن کنڑا اور اُڈپی اضلاع میں رہائشی علاقوں میں پکڑے گئے چیتوں کو محکمہ کی جانب سے قریب کے جنگلات میں ہی چھوڑے جانے سے وہ دوبارہ آبادی میں گھس کر عوام کو پریشا ن کئےجانےکی بات عوام کہہ رہے ہیں۔ محکمہ کو چاہئےکہ وہ پکڑے گئے چیتوں کو گھنے جنگلات والےعلاقوں میں چھوڑنا بہتر ہوگا۔

محکمہ فوریسٹ کی تیاری :چیتوں سے خوف زدہ منگلورو ہوائی اڈے کے افسران نے محکمہ فوریسٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ چیتوں کو پکڑ لیں۔ افسران کے دباؤ کے چلتے فوریسٹ محکمہ چیتوں کو پکڑنےکی تیاری میں ہے اور چیتوں  کا پتہ لگانے کا کام شروع کردیاہے۔ چیتوں کو پھاندنے کےلئے ہوائی اڈے کے اندر تین جال اور اطراف کے جنگل والے علاقوں میں دو جال بچھائے رکھے ہیں لیکن ابھی تک کہیں بھی چیتا نظر نہیں آیا ہے۔

کیسے داخل ہوتے ہیں ؟:ہوائی اڈے کے اندر داخل نہیں ہونےکےلئے مضبوط دیواریں کھڑی کی گئی ہیں، اس کے علاوہ چیتے اندر گھس آرہے ہیں۔چیتے پانچ چھے فٹ کی اونچی دیواروں کو بڑی آسانی سے چھلانگ لگا کر پار کرلیتے ہیں۔ ائیر پورٹ کے اندر سے بارش کا پانی باہر جانے کےلئے نصب کئے گئے اندرونی پائپ کے ذریعے بھی اندر گھس آنے کا خدشہ جتایا گیا ہے اور چند جگہوں پر لوہےکے گرل لگائے گئے ہیں جو اس وقت زنگ آلودہ ہیں، اس ذریعے بھی اندر آنے کی افسران بات کہہ رہےہیں۔


Share: